*مولا علی کے نام کے ساتھ "علیہ السلام" قرآن و حدیث کی روشنی می

View previous topic View next topic Go down

*مولا علی کے نام کے ساتھ "علیہ السلام" قرآن و حدیث کی روشنی می

Post  qasimali55570 on Sun Dec 18, 2011 11:50 pm


*مولا علی کے نام کے ساتھ "علیہ السلام" قرآن و حدیث کی روشنی میں*

.اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے



خانہِ رب میں امامت کا اجالا اترا
دیکھ کر شکلِ علی۴ چاند کا چہرہ اترا
آج بھی کعبہ کے چکر میں ہے مصروف جہاں
آج تک مولا علی۴ تیرا نہ صدقہ اترا



آج کل لوگ اپنی کم عقلی اور دینی معاملات میں کم علمی کی وجہ سے ناصبیوں اور دورِ حاظر کے خوارج کی باتوں میں جلد آجاتے ہیں اور بنا کسی تحقیق کے ان کی بات کو حجت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان ناصبیوں کے پیدا کردا مسائل میں سے ایک مسئلہ غیر نبی اور ملائکہ کے نام کے ساتھ "علیہ السلام" لگانا بھی ہے۔ اور خاص طور پر جب یہ پنجتن پاک۴ کے نام کے ساتھ ہو تب یہ ان کے لیے بہت تکلیف کا باعث بن جاتا ہے اور وہ اسے بدعت کا نام دے کر لوگوں کے ذہنوں میں فتنہ پیدا کرتے ہیں۔ آئیے ذرا قرآن و حدیث کی روشنی میں اسکا جائزہ لیتے ہیں۔ مگر ان سب سے پہلے "علیہ السلام" کے معنیٰ جان لینا ضروری ہیں۔



علیہ السلام کا مفہوم ہے :

اس/ان پر سلامتی ہو

Peace be upon her/him



قرآنِ کریم میں بے شمار مقامات پر اللہ پاک نے "سلام" (سلامتی) کے تحفے سے انبیاہ اور ملائکہ کے علاوہ مومنین کو بھی نوازا ہے ہے :



الانعام 54

وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پرایمان رکھتے ہیں تو آپ فرمائیں کہ تم پر "سلام" ہو تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت لازم کرلی ہے، سو تم میں سے جو شخص نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کر لے تو بیشک وہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے



النمل 59

قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى آللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ

فرما دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اس کے منتخب (برگزیدہ) بندوں پر "سلامتی" ہو، کیا اللہ ہی بہتر ہے یا وہ (معبودانِ باطلہ) جنہیں یہ لوگ (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں



النساء 94

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُواْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر پر نکلو تو تحقیق کر لیا کرو اور اس کو جو تمہیں "سلام" کرے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم دنیوی زندگی کا سامان تلاش کرتے ہو تو اللہ کے پاس بہت اَموالِ غنیمت ہیں۔ اس سے پیشتر تم توایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا پس تحقیق کر لیا کرو۔ بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے



القدر 5

سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ

یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) "سلامتی" ہے



النور 27

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو "سلام" کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم غور و فکر کرو



النور 61

لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُون

اندھے پر کوئی رکاوٹ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور نہ خود تمہارے لئے (کوئی مضائقہ ہے) کہ تم اپنے گھروں سے (کھانا) کھا لو یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سب کے سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ، پھر جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے (گھر والوں) پر "سلام" کہا کرو (یہ) اللہ کی طرف سے بابرکت پاکیزہ دعا ہے، اس طرح اللہ اپنی آیتوں کو تمہارے لئے واضح فرماتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو



اسی طرح اللہ کے محبوب صلي الله عليه وآله وسلم کی سنت بھی ہمیں "سلام" کو عام کرنے کا درس دیتی ہے۔ امام بخاری (رح) نے "سلام" کی اھمیت میں احادیث کے بے شمار باب قائم کئے ہیں جن میں سے چند احادیث پیشِ خدمت ہیں :



صحیح بخاری
کتاب الاستئذان
باب: سلام کو زیادہ رواج دینا
حدیث نمبر: 6235

حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الشيباني، عن أشعث بن أبي الشعثاء، عن معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء بن عازب ـ رضى الله عنهما ـ قال أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع بعيادة المريض، واتباع الجنائز، وتشميت العاطس، ونصر الضعيف، وعون المظلوم، وإفشاء السلام، وإبرار المقسم، ونهى عن الشرب في الفضة، ونهانا عن تختم الذهب، وعن ركوب المياثر، وعن لبس الحرير، والديباج، والقسي، والإستبرق.

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کاحکم دیا تھا۔ بیمار کی مزاج پرسی کرنے کا، جنازے کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کے جواب دینے کا۔ کمزور کی مدد کرنے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا، افشاء سلام (سلام کا جواب دینے اور بکثرت سلام کرنے) کا قسم (حق) کھانے والے کی قسم پوری کرنے کا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا تھا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے ہمیں منع فرمایا تھا۔ میثر (ریشم کی زین) پر سوار ہونے سے، ریشم اور دیباج پہننے، قسی (ریشمی کپڑا) اور استبرق پہننے سے (منع فرمایا تھا)۔


صحیح بخاری
کتاب الاستئذان
باب: پہچان ہو یا نہ ہو ہر ایک مسلمان کو سلام کرنا
حدیث نمبر: 6236

حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني يزيد، عن أبي الخير، عن عبد الله بن عمرو، أن رجلا، سأل النبي صلى الله عليه وسلم أى الإسلام خير قال " تطعم الطعام، وتقرأ السلام على من عرفت، وعلى من لم تعرف "

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے، ان سے عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ (مخلوق خدا کو) کھا نا کھلاؤاورسلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔


صحیح بخاری
کتاب الاستئذان
باب: کم عمر والا پہلے بڑی عمر والے کو سلام کرے
حدیث نمبر: 6234

وقال إبراهيم عن موسى بن عقبة، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن أبي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يسلم الصغير على الكبير، والمار على القاعد، والقليل على الكثير ".

اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوٹا بڑے کو سلام کرے، گزرنے والا بیٹھنے والے کواور کم تعدا د والے بڑی تعداد والوں کو۔



اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ و سنت نہ صرف "سلام" بلکہ اپنے صالح اور برگزیدہ بندوں پر درود(رحمت) کو بھی جائز قرار دیا ہے :


البقرہ 157

أُولَـئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ

یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے پے در پے نوازشیں ہیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں

التوبہ 103

خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاَتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجئے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرما دیں اور انہیں (ایمان و مال کی پاکیزگی سے) برکت بخش دیں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، بیشک آپ کی دعا ان کے لئے (باعثِ) تسکین ہے، اور اﷲ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے



اور امام بخری(رح) نے تو باب ہی اس نام سے قائم کر دیا کہ "کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور پر درود بھیجا جا سکتا ہے؟" :


صحیح بخاری
کتاب الدعوات
باب: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور پر درود بھیجا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 6359

حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابن أبي أوفى، قال كان إذا أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم بصدقته قال " اللهم صل عليه" فأتاه أبي بصدقته فقال " اللهم صل على آل أبي أوفى"

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے یبان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے اور ان سے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی شخص اپنی زکوٰۃ لے کر آتا تو آپ فرماتے ”اللهم صل عليه“ (اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما) میرے والد بھی اپنی زکوٰۃ لے کر آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! آل ابی اوفی پر اپنی رحمت نازل فرما۔



اب کچھ مسنون دعائیں خدمت میں عرض ہوں جن سے غیرِنبی پر سلام کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے :



1) جب مسلمان ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں :

السلامُ علیکم

ترجمہ: "تجھ پر سلامتی ہو"



2) جب قبرستان میں داخل ہوتے ہیں :

السلامُ علیکم یا اھل القبور

"اے قبر والوں تم پر سلامتی ہو"



3) نماز کے دوران "التحیات" میں دعا کرتے ہیں :

السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين

"سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر"


اور سب سے آخر میں چند حوالہ جات امام بخاری(رح) کے جس میں انہوں نے بذات خود "علیہ السلام" غیرِ نبی و ملائکہ کے نام کے ساتھ لگایا ہے جس میں مولا علی علیہ السلام کا اسمِ مبارک بھی شامل ہے۔


1) امام بخاری (رح) کا سیدنا مولا علی علیہ السلام کے نام کے ساتھ "علیہ اسلام" لگانا

i) صحیح بخاری
کتاب المغازی
باب: حجۃ الوداع سے پہلے علی بن ابی طالب "علیہ السلام" اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجنا


2) امام بخاری (رح) کا سیدہِ کائنات فاطمہ زھرہ علیہ اسلام کے نام کے ساتھ "علیہ السلام" لگانا

i) صحیح بخاری
کتاب فضائل اصحاب النبی
باب: حضرت ابوالحسن علی بن ابی طالب القرشی الہاشمی کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 3705

حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن الحكم، سمعت ابن أبي ليلى، قال حدثنا علي، أن فاطمة، عليها السلام شكت ما تلقى من أثر الرحا، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم سبى، فانطلقت فلم تجده، فوجدت عائشة، فأخبرتها، فلما جاء النبي صلى الله عليه وسلم أخبرته عائشة بمجيء فاطمة، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم إلينا، وقد أخذنا مضاجعنا، فذهبت لأقوم فقال " على مكانكما ". فقعد بيننا حتى وجدت برد قدميه على صدري وقال " ألا أعلمكما خيرا مما سألتماني إذا أخذتما مضاجعكما تكبرا أربعا وثلاثين، وتسبحا ثلاثا وثلاثين، وتحمدا ثلاثة وثلاثين، فهو خير لكما من خادم ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا، کہا ہم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ علیہ اسلام نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں لیکن آپ موجود نہیں تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے، اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاؤں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی لیٹے رہو، اس کے بعد آپ ہم دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی،۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں، جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو، یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہترہے۔

ii) صحیح بخاری
کتاب فضائل القرآن
باب: ۔۔۔

كان جبريل يعرض القرآن على النبي صلى الله عليه وسلم. وقال مسروق، عن عائشة، عن فاطمة عليها السلام: أسر إلي النبي صلى الله عليه وسلم: (أن جبريل كان يعارضني بالقرآن كل سنة، وإنه عارضني العام مرتين، ولا أراه إلا حضر أجلي).
حضرت جبرائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ اور مسروق نے کہا، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ علیہ اسلام نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے فرمایا تھا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ سے ہر سال قرآن مجید کا دورہ کرتے تھے اور اس سال انہوں نے مجھ سے دو مرتبہ دورہ کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میری موت کا وقت آن پہنچا ہے۔


3) امام بخاری (رح) کا سیدنا عباس علیہ اسلام کے نام کے ساتھ "علیہ السلام" لگانا

صحیح بخاری
کتاب الفرائض
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے
حدیث نمبر: 6725

حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، أخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، أن فاطمة، والعباس ـ عليهما السلام ـ أتيا أبا بكر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم وهما حينئذ يطلبان أرضيهما من فدك، وسهمهما من خيبر.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ اور عباس علیہما السلام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبرمیں بھی اپنے حصہ کا۔



قرآن و حدیث کے ان سب دلائل کے بعد بھی اگر کسی کا دل مولا علی علیہ السلام پر "سلام" بھیجنے میں راضی نہ ہو تو اسکو خدا کا خوف کرنا چاہئے، کیوںکہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں، قبرستان کے مردوں اور خود اپنی ذات پر سلام بھیجنے میں راضی ہے اور جب بات مولاءِ کائنات علی علیہ السلام کی آئے تو دل میں ملال آتا ہے یہ اسکے دل میں موجود نفاق اور بغضِ مولا علی علیہ السلام کی گواہی ہے۔ اسکو چاہئے کہ اپنے ایمان پر نظرِ ثانی کرے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے


صحیح مسلم
ایمان کے متعلق
باب: علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والا مومن اور بغض رکھنے والا منافق ہے۔
حدیث نمبر: 36

سیدنا زر بن حبیش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا (پھر اس سے گھاس اگائی) اور جان بنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ مجھ سے سوائے مومن کے کوئی محبت نہیں رکھے گا اور مجھ سے منافق کے علاوہ اور کوئی شخص دشمنی نہیں رکھے گا۔

بدن پہ جامہء احرام دل میں بغض علی۴
تیرے نصیب کا چکر ہے یہ طواف نہیں


اس ناچیز نے جس حد تک ممکن ہو سکا اس تحریر میں غلطیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے مگر بحیثیتِ انسان اگر کوئی غلطی باقی رہ گئی ہو تو یہ خادم اصلاح کی گزارش کرتا ہے اور اللہ پاک سے معافی کا طلبگار ہے اور یہ تحریر بطور نزرانہ اپنے آقا و مولا سیدنا مولا علی علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کرتا ہے

link


[url=http://www.facebook.com/photo.php?fbid=279097315463407&set=at.155917067781433.31081.100000894211131.100000760984303&type=1&theater ]http://www.facebook.com/photo.php?fbid=279097315463407&set=at.155917067781433.31081.100000894211131.100000760984303&type=1&theater [/url]

qasimali55570

Posts : 382
Join date : 2011-01-31

View user profile

Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum